Thursday, July 14, 2022

Positive thought

مثبت سوچ 
عروج کا راستہ مثبت سوچ 
دنیا میں دو طرح کی سوچ کے انسان پائے جاتے ہیں ایک وہ جن کی سوچ اور خیالات مثبت اور اعلیٰ ہوتی ہیں ان کی تعداد تو کم ہوتی ہے لیکن انہی لوگوں کی وجہ سے دنیا میں عروج و ترقی اور خوشحالی ہے۔ دوسرے وہ لوگ جن کی تعداد بہت زیادہ ہے یعنی منفی سوچ اور برے خیالات کے مالک۔ ان کی زندگی تنقید اور برائیوں میں گزرتی ہے اور ان ہی کی وجہ سے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں سلطنت الٹ جاتی ہیں۔ رشتے برباد ہو جاتے ہیں اور دنیا میں زوال آتا ہے۔

Tuesday, July 12, 2022

ڈیٹا سے آگے

علم کے ذرائع

حصولِ علم کا ذریعہ حواس ہیں۔ اللہ پاک نے انسان کو مختلف حواس سے نوازا ہے جن کے ذریعے وہ علم حاصل کرتا ہے۔ حواسِ خمسہ سے جو علم حاصل ہوتا ہے اسے کبھی علم، کبھی اطلاع، کبھی خبر اور کبھی ڈیٹا کہتے ہیں۔ ڈیٹا اس علم یا اطلاع یا خبر کو کہا جاتا ہے جسے کسی پراسس سے گزارا جائے۔


Monday, July 11, 2022

عظمتِ قرآن

قرآن کی عظمت

قرآنِ پاک عظیم ہے۔ اسے جس قدر عظیم سمجھو، یہ اس سے زیادہ عظیم ہے۔ اس سے جتنی محبت کرو، اتنا ہی اس کا فیض تمہاری جانب آتا ہے۔ کم عظمت کے ساتھ زیادہ قرآن پڑھنے سے بہتر ہے کہ بے پناہ عظمت رکھ کر کم پڑھ لیا جائے۔ اس کا فیض؛ اس کی عظمت اور ادب کے احساس کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔

Saturday, July 2, 2022

نوری رموز اوقاف

نوری رموزِ اوقاف

فہرست

تحریروں میں استعمال ہونے والی علامات اور ان کے نام:

سکتہ(،) کم از کم ٹھہراؤ

وقفہ(؛)، تعلیلیہ یا Semicolon

اصول و ضوابط

رابطہ (:)وقفِ لازم Colon

تفصیلیہ (:-) علامت ذیل

ختمہ (۔/․) وقف مطلق ،وقف تام ، وقفِ کامل، فُل اسٹاپ

ختمہ (۔) کا مفہوم

نوٹ: (۔)

واوین ( ' ', " " ) علامت اقتباس، اقتباسیہ یا انورٹڈ کاماز

علامتِ تعجب (!) فجائیہ، ندائیہ، اور استعجابیہ

علامتِ ندا (!) ندائیہ

فجائیہ (!)

سوالیہ (؟/?)علامت استفہام و استدلال

خط (---، ـــــــــــ)

قوسین (( ))علامت قوسین, خطوط وحدانی

نقطے (․․․․․) علامت ترک

علامت علامت شعر (؎) کا مفہوم

علامت مصرع (؏) کا مفہوم

علامت ایضا( //) ۔

خطِ فاصل (/)

علامات

مخففات

ان رموز کو لکھنے کا صحیح طریقہ

مضمون کیسے لکھیں؟

اجازت نامہ


رموز اوقاف(Punctuation) کی اہمیت

تحریر میں رموزِ اوقاف کی ضرورت و اہمیت پر ایک جامع رسالہ


مہکتی قبریں (مکمل ناول)

مہکتی قبریں

سید محمد سلیم قادری نقشبندی نوری

فہرست


انتساب:۔        9

چند باتیں        11

ایک جامع تبصرہ        14

عین نوری        14

دل جلا        18

نیل کنول        36

لیلیٰ کا ساگر        50

انوکھی قربانی        66

خون کا بدلہ خون        80

ہاتھوں کی محبت        95

گستاخِ رسول ﷺ کو قتل کرو        115

ہجرت بہت کٹھن        129

آگے آگے دیکھئے ____        145

گرم گرم ____ آہ        157

دیوانے کا عشق        177

زیرے سے ہیرے تک        193

آئی لو یو        216

چوتھی ڈائمنشن        229

قبریں مہکتی ہیں        255

آخری چند باتیں ____ عین ٹینگلمنٹ        264

شماریات        267

سچے تبصرے        271

محبت کی جھلکیاں ____ محمد سلیم قادری        271

شاندار کاوش ____ محمد عابد قادری        271

یہ ناول ضرور پڑھیں ____ محمد صادق قادری        272

تعریف کے لئے الفاظ کی کمی محسوس کر رہا ہوں ____ سید محمد جسیم قادری        273

خوب صورتی اور مہارت ____ مہہ جبین        274

جان توڑ محنت ____ سید وجاہت علی مخدومی ساگر قادری        275

روح کو تسکین ملی ____ محمد عزیر بن عباس        276

اجازت و التماس        279

اجازت نامہ        279

التماس        279

الفاظِ تہنیت        280



مہکتی قبریں

(تاریخی ناول)

سیّد محمد سلیم قادری

میواتی الوری رسول پوری

پاکستان کی گولڈن جوبلی سالگرہ کے موقعے پر پاکستان کے چاہنے والوں کے لیے ایک خوبصورت تحفہ



انتساب

بہت ہی پیاری سی

کامنی سی موہنی سی

اس لڑکی کے نام

جس نے اس تحریر کی کتابت میں دن رات ایک کردیئے

وہ جو اس وقت پیدا ہوئی جس وقت اس کا قلمی نسخہ لکھا جا رہا تھا

ایک لاکھ چھیاسی ہزار روشن حروف کی کتابت کیلئے

ایسی ہی نوری درکار تھی

جس کا راستہ روشنی ہو اور جس کا طریقہ نوری

عین نوری کے نام

بسمل تسمل



نام کتاب: مہکتی قبریں

مصنف: سید محمد سلیم قادری

بارِ اوّل: ۱۲۔ ۲۔ ۱۴۱۷ ھ بمطابق ۲۸ جون ۱۹۹۶

جملہ حقوق محفوظ ہیں

ناول کے تمام کردار فرضی ہیں کسی بھی قسم کی مشابہت اور مطابقت سے مصنف اور پبلشرز قطعی بری الذمہ ہیں۔



چند باتیں

اپنے تمام پڑھنے والوں کو سلام پیش کرنے کی سعادت ایک بار پھر حاصل کر رہا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ پروردگار آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین!

مظہر الایمان

مظہر الایمان

یعنی آپ کی ہر مشکل کا یقینی حل

حضرت میاں محمد مظہر احسان ڈاہرؒ

(نقشبندی، مجددی، مکان شریفی)

Updated on: Mar 16, 2022

فہرست

مظہر الایمان

اللہ اور بندے کا تعلق

ایمان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت

مسلمان اور نماز

دنیا کا رزق اور عزت کس چیز میں ہے؟

آدمی کے عروج و زوال کا انحصار کس چیز پر ہے

احکام خداوندی اور روحانیت

شیخ سے ہمیں کیا چاہیئے

قلب:

انسان کے جسم میں قلب کی اہمیت:

روح:

ہمارا مشن

ذکر قلبی

صحبت شیخ

درود پاک

عددی تجزیہ


مظہر الایمان

اللہ اور بندے کا تعلق

دنیا کا ہر واحد عنصر در اصل مرکب کا حامل ہوتا ہے۔ جیسے ریت کا ایک ذرہ جو بظاہر مفرد یا واحد نظر آتا ہے اس میں بھی کئی چیزوں کی آمیزش ہوتی ہے۔ کوئی واحد اور منفرد (مخلوق میں سے) آمیزش سے خالی نہیں۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی واحد، احد، یکتا و یگانہ و بے مثل و بے نظیر ہے۔ وہ ایسا واحد اور احد ہے جو آمیزش سے پاک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ فطری طور پر ناممکنات میں سے ہے۔ ہمارے پروردگار کا ذاتی نام (اسم اللہ) ہی وحدانیت کا حامل ہے۔ اسم اللہ کے حروف ایک ایک کر کے ہٹانے بھی آخری حرف تک اس کا نام اور ذات باقی رہتے ہیں۔ دنیا میں کسی بھی مخلوق کا نام لے لیجیے اس کا ایک یا دو حروف ہٹانے سے نہ تو اس کا صحیح نام رہتا ہے اور نہ ذات کے ساتھ تعلق باقی رہ سکتا ہے مثلاً: نذیر کا "ن" دور کرنے سے ذیر رہ گیا، اب نہ اسم نذیر ہی رہا اور نہ ہی ذات کے ساتھ ذیر کا کوئی تعلق رہ گیا۔ تمام مخلوق کے ناموں کا یہی حال ہے۔ لیکن اسم اللہ کا ایک ایک حرف ہٹا کر دیکھیے۔ نام بھی باقی رہے گا اور ذات سے تعلق بھی قائم رہے گا۔

متشابہات القرآن

متشابہات القرآن (تحفۃ الحفاظ)

قرآنِ پاک کے متشابہات کے بارے میں ایک فکر انگیز رسالہ


1. امام کسائیؒ

امام کسائیؒ لغت، صرف و نحو اور قرأت کے امام گزرے ہیں۔ آپؒ کی وفات 189 ہجری میں ہوئی۔ یاد رہے کہ امام بخاری کی پیدائش 194 ہجری میں ہوئی تھی۔ یعنی امام کسائیؒ امام بخاری کی پیدائش سے بھی پانچ برس قبل وفات پا چکے تھے۔

آپؒ نے ایک بہترین کتاب مرتب فرمائی ہے۔ یعنی "مشتبہات القرآن"۔ اور اس کتاب کی شان یہ ہے کہ اس میں قرآنِ پاک کے حافظوں کیلئے انہوں نے خزانہ جمع فرما دیا ہے۔

اَلشَّيْخُ فِي قَوْمِهِ

اَلشَّيْخُ فِي قَوْمِهِ كَالنَّبِيِّ فِي أُمَّتِهِ

ایک حدیث شریف کی تشریح اور ذاتِ شیخ کا تعارف

سید محمد سلیم قادری نوری نقشبندی

Updated on: Jun 17, 2022

آستانۂ نوری کی پیشکش

 


فہرست

پیش لفظ

نوٹ :

لفظِ شیخ کے معنیٰ

قرآنِ پاک میں لفظ شیخ

ش ی خ :

لفظ شیخ کے معنی:

شیخ و شاب

شیخین اور شیخ الشیوخ

شیخ الحدیث

شیخ الاسلام کا لقب

شیخ بمعنی مسلمان

شیخ بمعنیٰ بوڑھا شخص

شیخ کی تعریف :

بدھسٹ شاؤلن کی اپنے بزرگوں کی قدر :

توقیرِ شیخ ہماری اقدار سے ہے :

مقام شیخ :

اَلشَّيْخُ فِي قَوْمِهِ كَالنَّبِيِّ فِي أُمَّتِهِ

روحانی پیدائش:

وَبِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً:

مقام شیخ :

رسول کی پکار :

معلم الخیر:

روحانی ترقی میں رکاوٹ کی وجہ :

عقل پیر :

زمین کے تارے اور پہاڑ :

تعظیم بزرگان :

عورتوں سے بیعت لینا:

شاندار عورت

ریاکاری :

شیخ کون ہوتا ہے؟

ضعیف و موضوع :

پیر و مرشد کا مرتبہ :

معصومیت یا حفاظت؟

امامت اور معصومیت

بزرگوں کے منکرین

دریدہ دہن :

انجینئر کا طریقۂ واردات :

باسی یو ٹیوب کا :

انجینئر کا کنگ فو :

خود کارانہ عددی تجزیہ (Mar 24, 2022)

پیش لفظ

ظَهَرَ الشَّيبَ، وَلَم يَذْهَبُ الْعَيْبَ، وَلا أدْري مَا في الغيبِ

بڑھاپا آگیا لیکن میرے عیب (برائیاں اور گناہ) نہیں گئے

اور میں نہیں جانتا کہ آگے کیا ہے

میری یہ تحریر ایک حدیث شریف (اَلشَّيْخُ فِي قَوْمِهِ كَالنَّبِيِّ فِي أُمَّتِهِ) کا کچھ تفصیلی بیان ہے۔ اسے انٹرنیٹ پر شائع کرنے سے پہلے میرے جسم میں عظیم تغیر واقع ہوا۔ شدید ضعف اور پیری اچانک لاحق ہوگئی، دل لرزنے لگا، جیسے اٹیک ہو گیا ہو، اور ایسا ہو گیا جیسے اس میں سے سارا خون نچوڑ لیا گیا ہو۔ آنکھوں سے آنسو برسنے لگے۔ آسمان کی طرف نظریں اٹھانے سے خوف آنے لگا۔ حتیٰ کہ نماز میں کھڑا ہونے سے بیحد شرم آنے لگی۔ بلکہ اپنے ہونے پر نہایت شرمندگی ہونے لگی۔ لیکن

تجھ سے چھپاؤں منہ تو کروں کس کے سامنے

کیا پرسش اور جا بھی سگ بے ہنر کی ہے؟؟؟

نوٹ :

کبھی کبھی میرے جسم پر اچانک اس قدر ضعیفی (بظاہر بلا وجہ) طاری ہوجاتی ہے کہ بزرگ ترین حضرات بھی جوان معلوم ہوں، اور کبھی اس کے بالکل برعکس بھی ہوتا ہے۔ میں آج تک اس کی وجہ نہیں سمجھ پایا تھا۔ میں نے اپنے حضرت میاں ظفر صاحب سے اس بارے میں دریافت کیا کیونکہ میں اپنے حضرت صاحب میں بھی اس کو پاتا ہوں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی اس کیفیت سے گزرتے ہیں۔ جسے میں بخوبی جان سکتا ہوں۔ تاہم اب جاکر اس کیفیت کا تعلق میں انس اور ہیبت سے جوڑنے کے قابل ہوا ہوں۔ بلا شبہ دنیا اللہ ہی چلاتا ہے اور وہی خوب جانتا ہے کہ اسے دنیا کس طرح چلانی ہے۔

(سلیم نوری)


لفظِ شیخ کے معنیٰ

شیخ کا لفظ ہمارے ہاں کئی معنیٰ پر بولا جاتا ہے۔ کبھی بہ اعتبارِ عمر، کبھی بہ اعتبارِ فضل اور کبھی بہ اعتبار نسب اور کبھی بہ اعتبارِ عموم۔ اشرافِ قوم کو بھی شیخ کہا جاتا ہے۔ اور کبھی کریم شخص کو بھی شیخ کہہ دیتے ہیں۔ عجمی (پاکستانی، ہندوستانی، بنگلہ دیشی وغیرہ) لوگ عربی افراد کو بالخصوص مال و دولت رکھنے والے عربی کو بھی عموماً شیخ ہی کہتے ہیں۔